ہماری پالیسیاں جاری رہتیں تو ڈالر 50 کا ہوتا ، ہم ملک کو ترقی دیتے ہیں ، پھر قید ، جلاوطنی بھی کاٹتے ہیں، تمام مسائل پر نظر ہے
![]() |
| مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے دور کی پالیسیاں جاری رہتیں تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے اور ڈالر 40 یا 50 روپے کا ہو تا |
لاہور ،
مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارے دور کی پالیسیاں جاری رہتیں تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے اور ڈالر 40 یا 50 روپے کا ہو تا، جو منصوبہ 2018 میں مکمل ہونا چاہیے تھا بد نصیبی سے آج تک مکمل نہیں ہو پایا ، پوچھنا چاہیے آپ کو کہ کہاں گئی وہ تبدیلی ؟
، ہم ملک کو ترقی دیتے ہیں پھر جلا وطنی اور قید بھی کاٹتے ہیں
، ہم ملک کو ترقی دیتے ہیں پھر جلا وطنی اور قید بھی کاٹتے ہیں، 2022 میں حکومت میں آنے پر تیار نہیں تھے ، شہباز شریف کے مستعفی ہونے کی تقریر تیار تھی مگر ہم نے دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، پاکستان کے مفاد کیلیے بے خوف ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ، بات پاکستان کی ہو تو ہم ذاتی مفاد کے نقصان کی پرواہ کبھی نہیں کرتے ، آج پاکستان کی کرنسی کو مٹی میں ملادیا گیا، اتنی مہنگائی میں عوام کیسے زندہ رہیں گے ،
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہماری بنائی پالیسیوں کو بھارت نے اپنایا اور معاشی ترقی حاصل کی۔ 2013 سے 2018ء کے دوران ہمارے دور میں مہنگائی سالانہ 12 فیصد سے کم ہو کر چار فیصد پر آگئی تھی ، ترقی کی شرح 6 فیصد سے زیادہ تھی جبکہ پالیسی ریٹ 5.5 فیصد پر لے آئے تھے۔
انڈسٹری میں آنے والے پیسے کے بارے میں نہ پوچھنے کی پالیسی ہونی چاہیے
انڈسٹری میں آنے والے پیسے کے بارے میں نہ پوچھنے کی پالیسی ہونی چاہیے ۔ 1990 کے دور کی
ہماری پالیسیاں اور ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج پاکستان ترقی کی رفتار میں کہیں آگے ہو تا، ہم نے لوڈ شیڈ نگ کا خاتمہ کیا، ضرب عضب اور ردالفساد آپریشن شروع کیے اور کراچی میں امن قائم کیا۔ ادارے منافع کمائیں گے تو قوم اور خزانے سے بوجھ ختم ہو گا۔ شہباز شریف نے پاکستان کو ڈیفالٹ اور ملک و قوم تباہ کن حالات سے بچایا۔
لاہور چیمبر کے صدر کا شف انور نے کہا نواز شریف اور شہباز شریف کے دور اقتدار میں تجارت اور صنعت کو فروغ ملا، کاروباری حضرات ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا ٹیکسیشن سسٹم بہت پیچیدہ ہے اسے آسان بنانا ہو گا۔
اس موقع پر شہباز شریف ، مریم نواز ، اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں نواز شریف سے پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ملاقات کی۔ نواز شریف نے برطانیہ کے ساتھ پاکستان کے تاریخی تعلقات کے حوالے سے گفتگو کی جن میں تجارت اور سرمایہ کاری کا فروغ شامل ہے۔
انھوں نے شاہ چارلس سوئم کی سالگرہ پر مبارک کا پیغام دیا انھوں نے برطانوی حکومت پر ترقیاتی اعانت بڑھانے اور ڈی ایف شہباز شریف نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا ، جھوٹے خواب دکھانے بند کرنے ہونگے ، خطاب ،برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقاتآئی ڈی کی پاکستان کے حکومتی اور غیر حکومتی شراکت داروں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا۔

ایک تبصرہ شائع کریں