![]() |
| ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ بیروز گاری ، غربت اور مہنگائی سے |
ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ بیروز گاری ، غربت اور مہنگائی سے ہے ، ہم سب مل کر اس جنگ میں شامل ہوں گے اور مقابلہ کریں گے ، ہم نے تمام مسائل کو حل کرنا ہے یہاں سے ضیا الحق ، مشرف ، سلیکٹڈ کو للکارا ، محترمہ نے جمہوری طریقے سے انتقام لیا ، کچھ سیاست دان نوجوانوں کو استعمال کر نا چاہتے ہیں ، ہم اصل مقام دلوائیں گے ، جلسے سے خطاب
کراچی ( رپورٹ : کے ایم عباسی ، زبیر نذیر خان ) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ نے بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ انتخابی ڈا کے کا انتقام عدم اعتماد پیش کر کے لیا اور نالائق کو گھر بھیج دیا ۔ پیپلز پارٹی کے اچھے دن شروع ہونے والے ہیں ، ہمارا مقابلہ کسی سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ غربت ، مہنگائی اور بے روز گاری سے ہے ۔ ہم سب نے مل کر مسائل کا حل نکالنا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے لیاری میں گری اسپورٹس کمپلیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔اس موقع پر آصفہ بھٹو زرداری ، وزیراعلی سند سے مراد علی شاہ ، صوبائی وزرا میئر کراچی مرتضی وہاب دیگر بھی موجود تھے ۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ وہی کری گراؤنڈ ہے جہاں محترمہ بینظیر بھٹو شہید اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی شادی ہوئی تھی ، لیاری اور میرے خاندان کے درمیان تین نسلوں سے ایک خاص رشتہ ہے ، ملک کی ترقی کی جد و جہدانہی گلیوں سے شروع ہوئی تھی ، لیاری کے عوام نے ہی آمر ضیا الحق کو للکارا ، آپ نے ککری گراؤنڈ سے مشرف کو للکارا ، مار شلاؤں کا مقابلہ کیا اور اس نالائق کو بھی للکارا تھا ، بلدیاتی انتخابات میں لیاری نے کلین سوئپ کیا ، لیاری میں کلین سوئپ کر کے دنیا کو بتا دیا کہ جب سلیکشن نہیں ہو تو پیپلز پارٹی جیت جاتی ہے ، لیاری کی عوام نے جمہوری طریقہ سے لیا اور بلدیاتی انتخابات میں ثابت کر دیا کہ جب امپائر مداخلت نہیں کر تاتو پیپلز پارٹی جیتی ہے ، ہم نے 2018 کے انتخابی ڈا کے کا انتقام عدم اعتماد پیش کر کے لیا اور عدم اعتماد سے نالائق کو گھر بھیج دیا ، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ۔
جیالوں کے نعروں اور فقید المثال استقبال پر ان کا کہنا تھا کہ جئے بھٹو صدا جئے آج بہت خوشی ہو رہی ہے آج میں اپنے لیاری میں موجود ہوں آج شہید بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کا دن بھی ہے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آپ نے ثابت کر دیا کہ جب ایمپائر مداخلت نہیں کر تاتو پیپلز پارٹی جیتی ہے ، ہم نوجوانوں کو موقع فراہم کر رہے ہیں جو ان کا حق ہے ، ہم سب نے مل کر مسائل کا حل نکالنا ہے ،
لیاری کے یا کراچی کے عوام کو صحت اور کھیل کا حق دلائیں گے ۔ بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ ہم عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں ، صحت ، تعلیم کی سہولت اور کھیلوں جیسی مثبت سرگر میوں کو فروغ دیں گے ، مواقعوں کی فراہمی نوجوانوں کا حق ہے ، کراچی اور لیاری کو اس کا حق دلائیں گے ، لیاری میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے ، چاہتے ہیں کہ لیاری کے نوجوان بھی ملک کی ترقی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ہمارا مقابلہ بے روز گاری اور مہنگائی کی ہے ، ہم چاہتے ہیں نوجوانوں کو پیس دی جائے ،
کچھ سیاستدان نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں ، پیپلز پارٹی نہ نفرت اور نہ تقسیم کی سیاست پر یقین رکھتی ہے ، نوجوانوں کو موقع فراہم کیا جائے تو وہ ڈیلیور کر سکتے ہیں ۔ بلاول بھٹو نے جیالوں کو کمر کسنے کی ہدایت کر تے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے اچھے دن شروع ہونے والے ہیں ، محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے موقع پر ان کی شادی کے مقام پر اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کر کے خوشی ہورہی ہے ، لیاری میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہیں ، چاہتے ہیں کہ لیاری کے نوجوان بھی ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں ۔انھوں نے کہا کہ لیاری کے بچوں کو سہولت دے دیں تو ورلڈ آپ کا بندو بست لیاری کے بچے کریں گے ، لکری گراؤنڈ میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ، یہ گراؤنڈ بنا تو دیا ہے ، اب خیال آپ نے رکھنا ہے ۔
میئر کراچی مرتضی وہاب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق سندھ حکومت کام کر رہی ہے ۔ چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹوزرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا جبکہ محترمہ کے ایصال ثواب کیلیے دعا کی گئی ۔ دریں اثنا بلاول بھٹو زرداری نے ڈی ایچ اے صفہ یو نیورسٹی کراچی کے تیسرے کانووکیشن میں بطور مہمان خصوصی شرکت اور تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہماری سیاست شخصیات کیخلاف نہیں ہونا چاہیے ، سیاست سے نفرت تقسیم اور نوجوانوں کو تشدد پر اکسانے والوں کو ختم کر نا ہو گا ، نوجوانوں کے ملک سنبھالنے کاوقت آگیا ہے ۔ تقریب سے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، منسٹر یو نیورسٹی اینڈ بورڈز اساعیل راہو نے بھی شرکت کی ۔
قبل از میں وز میر خارجہ اور وزیراعلی سندھ کے پہنچنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد افضل ، پروفیسر احمد سعید ، ایڈ منسٹر یٹر ڈی ایچ اے بریگیڈیئر راۓ آصف نے ان کا استقبال کیا ۔ بلاول بھٹو نے 26 گولڈ میڈلز اور 13 سلور میڈلز پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات میں تقسیم کیے جبکہ 270 پاس آؤٹ طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں ۔
وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنس کے پاس آؤٹ طلبہ میں ڈگریاں تقسیم کیں ۔ بلاول بھٹوزرداری نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ جو نو جوانوں کو گمراہ کر کے تشدد پر اکسانا چاہتے ہیں انھیں مسترد کر نا ہو گا ، ہمیں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معیشت کا تنزلی کا چیلنج در پیش ہے ۔انھوں نے کہا کہ غربت اور بے روز گاری کے خاتمے کے لیے مل کر کام کر نا ہو گا ، آج کی تقریب میں شرکت میرے باعث اعزاز ہے ، موجودہ نوجوان نسل میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتی ہے ،
پاکستان کسی خاص طبقے یا کچھ افراد کا نہیں بلکہ سب کا ہے ، نوجوان اصل سرمایہ ہیں ، اور یہ ہی مستقل اور حال کی امید ہیں ، جو کوئی آپ کو پر تشد دواقعات کے لیے اکساۓ ، نفرت پر بنی باتیں کرے اس کو مسترد کر دیں ۔
سیاست دانوں کو غربت ، بے روز گاری کے خلاف لڑنا چاہیے ہمیں معاشی اور دیگر چینل نجرز کا سامنا ہے ہماری منزل خوشحالی اور ترقی ہونی چاہیے معاشی چیلنجز سے سرخرو ہو کر نکلیں گے ، پیپلز پارٹی جمہوریت پر یقین رکھتی ہے ، ایک جمہوری پاکستان کی تعمیر ہم سب کی ذمے داری ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں