متعلقہ اشاف نے بتایا 3 چیف جسٹس صاحبان نے نظر ثانی درخواستیں سماعت کیلیے لگانے کی ہدایات نہیں دیں، سپریم کورٹ نے اپیلیں سماعت کیلیے مقرر نہ کر کے ساز باز کی تعجب ہے شیخ رشید جیسا سیاستدان بھی غلط فہمی کا شکار ہوا، ادارے غلطی کریں تو انھیں مانا چاہیے ، افراد کے پر دہ پوشی کرنے سے اداروں کو شدید نقصان ہوتا ہے ، تحریری آرڈر
اسلام آباد (رپورٹ :
سپریم کورٹ نے فیض آباد دھر نا نظر ثانی کیس کی 15 نومبر کی عدالتی کارروائی کا تحریری حکمنامہ جاری کر دیا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا فیصلے کے تناظر میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پُر تشد د احتجاج پر احتساب ہوا، نتیجتا قوم کو 9 مئی کے واقعات دیکھنے پڑے، عدالتی حکمنامے میں شیخ رشید احمد کی بھی سرزنش کی گئی ہے۔
عدالت نے حکمنامے میں قرار دیا کہ سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرناکیس کا فیصلہ 6 فروری 2019 کو دیا، عدالتی فیصلے میں ماضی کے پر تشد دواقعات کا حوالہ دیکر مستقبل کیلیے وار ننگ دی گئی، تقریباً 5 سال گزرنے کے باوجود حکومتوں نے فیصلے پر عمل درآمد نہ کیا ، فیصلے کیخلاف نظر ثانی درخواستیں دائر ہوئی جنھیں سماعت کیلیے مقرر نہ کیا گیا جسکے سبب عدالتی فیصلے پر عمل در آمد نہ ہوا، فیض آباددھرنا فیصلے کے تناظر میں کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا نہ ہی پر تشدد احتجاج پر احتساب ہوا، نتیجتاً قوم کو 9 مئی کے واقعات دیکھنے پڑے،
عدالتی حکمنامے کے مطابق شیخ رشید کے وکیل نے کہا میں نظر ثانی درخواست واپس لینا چاہتا ہوں، عدالت نے بار بار پوچھا درخواست دائر کیوں کی، چار سال آٹھ ماہ تک معاملہ زیر التوار ہا، شیخ رشید کے وکیل نے جواب دیا غلط فہمی کے سبب نظر ثانی دائر کی، تعجب ہے ایسا سیاست دان جو طویل عرصہ تک رکن پارلیمنٹ اور وفاقی وزیر رہا اسے غلط فہمی ہو گئی ، عدالت نے یہ بھی پوچھا کیا شیخ رشید نے نظر ثانی درخواست کسی کے کہنے پر دائر کی جس کے جواب میں دہرایا گیا در خواست غلط فہمی کی بنا پر دائر کی۔
حکمنامے کے مطابق نظر ثانی درخواستیں طویل وقت تک سماعت کیلیے مقرر نہ ہونے پر متعلقہ عدالتی حکام سے پوچھا گیا، ایڈیشنل رجسٹرار فلیچر اور ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نے اپنی رپورٹس دیں جن کے مطابق 25 اپریل 2019 کو نظر ثانی درخواستیں فائنل کاز لسٹ کے ڈرافٹ میں دن ایک بج کر بارہ منٹ پر شامل ہوئیں تاہم اسی دن شام پانچ بج کر فائنل کاز لسٹ سے نکال دی گئیں ،
نظر ثانی درخواستیں محض پانچ گھنٹے بعد سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ہدایت پر کاز لسٹ سے نکالی گئیں، عدالتی عملے کے مطابق نظر ثانی درخواستیں وقت فوقتاً مختلف چیف جسٹس صاحبان کے سامنے رکھی جاتی رہیں لیکن تینوں چیف جسٹس صاحبان نے انہیں سماعت کیلیے مقرر کرنے کیلیے کوئی ہدایات نہیں دیں ، دوسروں کیلیے مثال قائم کرنے کیلیے یہ عدالت سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ نے نظر ثانی درخواستیں سماعت کیلیے مقرر نہ کر کے ساز باز کی ، عدلیہ ایسی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرائے گی،
سچائی اداروں کو مضبوط کرتی ہے، عوام بھی مضبوط اداروں کے حقدار ہیں، ہر ادارے کے اقدامات ذمہ دار اور شفاف ہونے چاہئیں ، ادارے غلطی کریں تو انھیں تسلیم کرنا چاہیے ، کسی غلط اقدام کو نظر انداز کرنے سے جھوٹ کا وجود ختم نہیں ہو جاتا، ایسا کر نا عوام کے حق کے منافی ہے جو اداروں کیلیے ٹیکس دیتے ہیں، اداروں پر عدم اعتماد کے سبب جمہوریت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، انفرادی شخصیات اداروں پر پردہ پوشی کریں تو اس سے اداروں کو نا قابل تلافی نقصان پہنچتا ہے، کوئی یہ نہ بھولے کہ عدالتی فیصلے پر تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز عمل درآمد کے پابند ہیں ، اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی چلانے پر غور کرنے کی ضرورت ہے ،
توقع ہے حکومت کا تشکیل کردہ انکوائری کمیشن ساٹھ دنوں میں اپنا کام مکمل کر لے گا، الیکشن کمیشن آئندہ تاریخ سے پہلے ایک ماہ کی مدت مکمل ہونے پر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے، سماعت 22 جنوری 2024 کو ہو گی۔
فیض آباد دہرنےپر کسی کا احتساب نہ ہونے پر قوم کو ۹ مئ واقعات دیکہنا پڑے

ایک تبصرہ شائع کریں