Food

مرگی کا گوشت 620 روپے تک جا پہنچا۔

 پھلوں ، سبزیوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر 30 سے 40 روپے فی کلو اضافہ ہونے لگا، انتظامیہ کی کارروائیاں

مرگی کا گوشت 620 روپے تک جا پہنچا۔ حیدر آباد میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں یک دم 30 سے 40 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا جبکہ ماہ صیام کے تیر ہویں روز بھی گراں فروش بھاری جرمانوں کے باوجود شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہے ۔

مرگی کا گوشت 620 روپے تک جا پہنچا۔ حیدر آباد میں مرغی کے گوشت کی قیمتوں میں یک دم 30 سے 40 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا جبکہ ماہ صیام کے تیر ہویں روز بھی گراں فروش بھاری جرمانوں کے باوجود شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف رہے ۔
مرگی کا گوشت 620 روپے تک جا پہنچا۔

 

تفصیلات کے مطابق حیدر آباد میں اشیائے خورونوش ، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کے ساتھ برائلر مرغی کے گوشت کی فی کلو قیمت میں پھر تیزی سے اضافہ ہونے لگا ہے۔ ماہ صیام کے پہلے روز 5 سو سے 520 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا تھا جس سے میں روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 30 روپے فی کلو تک اضافہ کیا جارہا ہے۔

 منگل کے روز یک دم 40 روپے کے اضافے کے ساتھ برائلر مرغی کے گوشت کی فی کلو قیمت 6 سو سے 620 روپے فی کلو کر دی گئی ہے۔ جبکہ مرغی کے گوشت کی سرکاری قیمت منگل کے روز فی کلو 575 روپے مقرر تھی۔ اسی طرح سبزیوں میں پیاز کی قیمت 30 روپے اضافے کے ساتھ سوروپے کلو، ٹماٹر کی قیمت 10 روپے اضافے کے ساتھ 70 روپے، بند 90 گوبی کی قیمت 10 روپے اضافے کے ساتھ 60 روپے فی کلو، شملہ مرچ 15 روپے اضافے کے ساتھ روپے فی کلو تک وصول کی جاتی رہی۔

 ادرک، لہسن، ہری پیاز ، گاجر سمیت دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں بھی 10 سے 20 روپے کافی کلو تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح پھلوں میں 240 روپے فی درجن کے بجائے 3 سو روپے ، سیب کلو 180 روپے کے بجائے ڈھائی سوروپے فی کلو، چیکو 180 روپے کے بجائے2 سوروپے فی کلو، کنوں 180 روپے کے بجائے ڈھائی سو روپے فی کلو، انگور 400 روپے کے بجائے 5 سوروپے فی کلو، ایرانی کھجور 450 روپے کے بجائے 5 سوروپے فی کلو تک فروخ تکی گئی۔

 ادھر انتظامی افسران کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر گراں فروشوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، روزانہ کی بنیاد پر ایک ایک اسسٹنٹ کمشنر اپنے اپنے علاقوں کے 4 سے 5 پھل یا سبزی فروشوں اور دکانوں یا مارٹ پر جاکر جرمانے عائد کر کے کارروائیوں کی رپورٹس اعلی حکام کو بھیج رہے ہیں لیکن اب تک سرکاری احکام کی خلاف ورزی پر کسی بھی گراں فروشوں کو گر فتار نہیں کیا جاسکا ہے

0/Post a Comment/Comments